ابنا: ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والے 16 افراد میں سے اکثریت غیر ملکیوں کی ہے۔ کابل میں واقع مشہور ریسٹورنٹ کے باہر خودکش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑالیا جبکہ اس کے 2 ساتھی پچھلے راستے سے ریسٹورنٹ کے اندر داخل ہوئے اور اندھا دھند فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں 16 افراد ہلاک اور 4 دیگر زخمی ہوگئے۔ افغان حکام کے مطابق سیکیورٹی گارڈز کی جوابی فائرنگ میں دونوں حملہ آور بھی مارے گئے۔ افغانستان میں اقوام متحدہ مشن کے ترجمان کے مطابق ان کے تین ملازم بھی ریسٹورنٹ کے قریب موجود تھے جو بعض ذرائع کے مطابق ہلاک ہوگئے۔ جبکہ برطانوی وزارت خارجہ نے اپنے ایک شہری کے ہلاک ہونے کی تصدیق کردی ہے۔ ادھر لبنان سے تعلق رکھنے والا آئی ایم ایف کا مقامی نمائندہ بھی مارا گیا۔طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے حملے کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے گروہ کا نشانہ، غیر ملکی حکام تھے۔اقوام متحدہ کے سکریٹری جنول بان کی مون نے اس حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ واضح رہے کہ افغانستان میں غیر ملکی فوجی، سنہ دو ہزار ایک سے اس ملک میں امن کی برقراری کے دعوے کے ساتھ موجود ہیں مگر اس ملک میں نہ صرف یہ کہ امن برقرار نہیں ہوا ہے بلکہ بھامنی مستقل بڑھتی جار رہی ہے اور افغانستان میں اس قسم کے حملوں اور بم دھماکوں میں زیادہ تر عام شہری مارے جارہے ہیں یہ ایسے میں امریکی ڈرون حملوں میں بھی افغان حکام کے مطابق عام شہری ہی ہلاک ہورہے ہیں۔
.......
/169